وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کی پشت پناہی بند کرے، اگر بات نہ مانی گئی تو کھلی جنگ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
Wednesday, 13th May 2026
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کابل حکومت پاکستان کے خلاف ہندوتوا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر کابل کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو دہلی کے ساتھ کیا گیا۔
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان نے تین مختلف ممالک کے ذریعے دیانتداری سے مذاکرات کی کوشش کی اور کابل حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات بھی کیے، تاہم دہشتگردی کے واقعات کے باوجود مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ بھارت اب براہ راست جنگ کے بجائے افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ کابل حکومت بھارت کی پراکسی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون موجود ہے اور اب تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔
وزیر دفاع نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے، اسے کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہ بنایا جائے بلکہ قومی مسئلہ سمجھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ فاٹا سے متعلق کیے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا، تمام صوبوں نے فنڈز دینے پر اتفاق کیا تھا جبکہ وفاق کی ذمہ داری جزوی تھی، تاہم اب اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا ضروری ہے۔
