اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) Pakistan Bureau of Statistics کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق ماہ رمضان کے دوران متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فروری 2026 میں مہنگائی کی سالانہ شرح 7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر افراطِ زر میں 0.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایرانی پاسداران کا نیتن یاہو کے دفتر پر حملے کا دعویٰ، اسرائیل میں سیکڑوں زخمی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً زیادہ رہی جہاں شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ شہری علاقوں میں مہنگائی 6.8 فیصد رہی۔ جولائی تا فروری مہنگائی کی اوسط شرح 5.46 فیصد رہی۔
ماہانہ بنیاد پر ٹماٹر 23 فیصد اور پھل 11.48 فیصد تک مہنگے ہوئے۔ دال ماش 8.19 فیصد، مشروبات 1.65 فیصد اور گوشت 1.45 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ دال مونگ، خشک میوہ جات اور گندم کی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ بجلی ٹیرف میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، لانڈری اور ٹیلر فیس میں 2، 2 فیصد جبکہ کوئلہ 1.71 فیصد مہنگا ہوا۔
دوسری جانب بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی نوٹ کی گئی۔ انڈے 22 فیصد اور چکن 20 فیصد تک سستے ہوئے، جبکہ آلو 16 فیصد، دال مسور 4 فیصد، پیاز 3.90 فیصد اور سبزیاں 3.88 فیصد تک سستی ہوئیں۔ بیسن، گھی، کوکنگ آئل، گڑ اور چینی کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی آئی۔ سالانہ بنیاد پر غذائی اشیاء 4.58 فیصد مہنگی ہوئیں جبکہ جلد خراب ہونے والی اشیاء 0.42 فیصد تک سستی ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق کپڑے اور جوتے 5.72 فیصد، ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور فیول 10 فیصد مہنگے ہوئے۔ الکوحل مشروبات اور تمباکو 3.53 فیصد مہنگا ہوا۔ سالانہ بنیاد پر صحت کی سہولیات 6.24 فیصد اور تعلیم 8.78 فیصد تک مہنگی ہوئی، جبکہ ریسٹورنٹ و ہوٹل چارجز 4.37 فیصد اور ٹرانسپورٹ کرائے 0.27 فیصد بڑھے۔ تفریحی و ثقافتی سہولیات میں 4.50 فیصد کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد تھی جبکہ فروری 2025 میں یہ 1.5 فیصد کی سطح پر تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سال کے دوران مہنگائی کے دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
