کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر کے علاقے آرام باغ میں موبائل مارکیٹ پر جاری اینٹی اینکروچمنٹ آپریشن اس وقت کشیدہ صورتحال اختیار کر گیا جب کارروائی کے دوران مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر صدر حاطم بھنگوار کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے مبینہ غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے آپریشن شروع کیا تھا۔
صاحبزادہ فرحان کا عالمی ریکارڈ، ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بن گئے
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی اینٹی اینکروچمنٹ ٹیم موقع پر پہنچی تو وہاں موجود مسلح افراد نے اچانک اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے باعث دکانداروں اور راہگیروں میں بھگدڑ مچ گئی جبکہ متعدد افراد نے قریبی دکانوں اور عمارتوں میں پناہ لے لی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض عناصر نے آرام باغ کے اطراف میں مبینہ طور پر روپوشی کے اڈے قائم کر رکھے تھے اور سرکاری کارروائی کے خلاف مزاحمت کی تیاری کر رکھی تھی۔ فائرنگ کے دوران سڑک پر ٹائر جلا کر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق موقع پر موجود پولیس نفری اور ضلعی افسران کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کے دوران پولیس اہلکار پیچھے ہٹ گئے جس کے باعث اینٹی اینکروچمنٹ ٹیم کو مشکلات پیش آئیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں اضافی نفری طلب کر لی گئی اور صورتحال کو کنٹرول میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور سرکاری کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی مکمل تفصیلات اور سرکاری مؤقف کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
