جنوبی وزیرستان: 10 نومبر 2025 کو فتنہ الخوارج کے دہشت گردانہ حملے میں تباہ ہونے والا کیڈٹ کالج وانا اب تین ماہ کی قلیل مدت میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا ساؤتھ کی فوری اور مؤثر کارروائی کے بعد دوبارہ طلباء کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھارتی پراکسی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، 34 ہلاک
کیڈٹ کالج وانا جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل وانا میں واقع ہے اور یہ علاقے کا ایک درخشاں تعلیمی نگینہ سمجھا جاتا ہے۔ 10 نومبر 2025 کو چند افغانی خوارج نے بارود سے بھری گاڑی کالج کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا کر ایک بزدلانہ حملہ کیا، لیکن طلبہ محفوظ رہے اور دشمن اپنے ناپاک عزائم میں ناکام ہوا۔
پاک فوج اور فرنٹیئر کور نے حملے کے بعد فوری اقدامات کرتے ہوئے کالج کی بحالی، سیکیورٹی اور اپ گریڈیشن کی ذمہ داری سنبھالی، اور اسے پہلے سے زیادہ مضبوط اور محفوظ بنایا۔ تین ماہ کے مختصر عرصے میں کالج کی کلاسز دوبارہ فعال ہو گئیں اور طلبہ نے اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھا۔
اس موقع پر کیڈٹ کالج وانا میں ایک پروقار تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (ساؤتھ) میجر جنرل مہر عمر خان نے شرکت کی۔ تقریب میں طلبہ سے ملاقات کے دوران تعلیم کے فروغ، امن و استحکام اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مقامی قبائلی عمائدین اور شہریوں نے کیڈٹ کالج وانا میں تعلیمی سرگرمیوں کے دوبارہ سے اجرا پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو نوجوان نسل کے مستقبل کی ضمانت قرار دیا۔
پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے اس فوری اور فیصلہ کن اقدام نے واضح کر دیا ہے کہ تعلیم اور قوم کا مستقبل کسی دہشت گردی کے خوف سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ کیڈٹ کالج وانا کی بحالی اس بات کا عملی مظہر ہے کہ قوم اور سیکیورٹی فورسز متحد ہیں اور دہشت گردی کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
