ملک میں 7 سال بعد غربت کے اعدادوشمار جاری، شرح بڑھ کر 29.9 فیصد ہوگئی

اسلام آباد: ملک میں سات سال کے وقفے کے بعد غربت سے متعلق تازہ اعدادوشمار جاری کر دیے گئے ہیں، جن کے مطابق پاکستان میں مجموعی غربت کی شرح بڑھ کر 29.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

محکمہ صحت پنجاب کے چھٹیوں سے متعلق نئے احکامات، سینئر ڈاکٹرز کی رخصت کی منظوری کا اختیار واپس

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ 2018 کے بعد غربت کے سرکاری اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے تھے، تاہم اب پہلی بار کثیرالجہتی غربت (Multidimensional Poverty) کے اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران چاروں صوبوں میں غربت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہری علاقوں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہوگئی ہے۔

صوبوں کے لحاظ سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق:

پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے بڑھ کر 23.3 فیصد ہوگئی۔

سندھ میں شرح 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد تک جا پہنچی۔

خیبرپختونخوا میں غربت 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد ہوگئی۔

بلوچستان میں غربت 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد تک بڑھ گئی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم کم ہونے اور میکرو اکنامک استحکام کے لیے International Monetary Fund (آئی ایم ایف) پروگرام نافذ کرنے جیسے اقدامات ناگزیر تھے، تاہم روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافے نے عوام کو شدید متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں غربت کے درست تخمینوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے اور غربت کے خاتمے کے بغیر معیارِ زندگی میں بہتری ممکن نہیں۔ معاشی ناہمواری کا خاتمہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے پالیسیوں کے عدم تسلسل، کورونا وبا اور آئی ایم ایف پروگراموں کو غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ وژن کے تحت نظم و ضبط کے ساتھ قومی ایجنڈا پر عمل درآمد ناگزیر ہے، بصورت دیگر غربت میں کمی ممکن نہیں ہوگی۔

55 / 100 SEO Score

One thought on “ملک میں 7 سال بعد غربت کے اعدادوشمار جاری، شرح بڑھ کر 29.9 فیصد ہوگئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!