وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی مختصر ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے ان سے سوال کیا کہ ’’میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں؟‘‘
متنازع ٹوئٹس کیس: ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق انہوں نے اس سوال کے جواب میں مہمانوں کی اگلی صف میں بیٹھے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کیا۔ امن بورڈ کے معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے اس منظر کو براہِ راست نشر کیا، جہاں وزیراعظم اور امریکی صدر کو فیلڈ مارشل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ڈیووس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران انہوں نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس کے قیام کے اقدام پر صدر ٹرمپ کو سراہا اور اسے جنگ سے متاثرہ خطے میں امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیراعظم کے مطابق انہوں نے امریکی صدر سے کہا کہ اگر وہ فلسطینی عوام کے لیے امن، وقار اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے تو تاریخ اس اقدام کو ان کی عظیم وراثت کے طور پر یاد رکھے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے صدر ٹرمپ کے مؤثر کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ بروقت اور مؤثر مداخلت کے ذریعے خطے میں لاکھوں جانیں بچائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جبکہ اس ملاقات کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ صدر ٹرمپ نے خود پاکستان کے آرمی چیف کے بارے میں دریافت کیا۔
