کراچی، 23 ستمبر 2025 — وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن اور کراچی میں پانی کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں سینیئر وزرا، کور کمانڈر کراچی اور سول و ملٹری افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2024ء سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کچے میں آپریشن تیز کیا گیا، اب تک 760 انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹڈ آپریشنز اور 352 سرچ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔ ان کارروائیوں میں 159 ڈکیت ہلاک، 823 گرفتار اور 8 اشتہاری ڈکیت مارے گئے جبکہ 962 مختلف نوعیت کے ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچے کے علاقوں کو پرامن بنانے کے لیے سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم سرنڈر کرنے والے عناصر کو قانونی راستہ فراہم کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کچے میں ترقیاتی کام تیز کیے جائیں گے جن میں گھوٹکی-کندھ کوٹ پل، سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں اور ٹرانسپورٹ سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔
اجلاس کے دوران کراچی میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور ٹینکرز مافیا کے خلاف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ اب تک 243 غیر قانونی ہائیڈرینٹس مسمار، 212 ایف آئی آر درج اور 103 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹینکرز کو کیو آر کوڈ کے ساتھ رجسٹرڈ کیا گیا ہے جس سے واٹر بورڈ کی آمدنی میں 60 ملین روپے کا اضافہ ہوا۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ پانی کی فراہمی کے نظام کو شفاف بنانے اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے۔
