اسلام آباد — معروف رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی پاکستان بھر میں تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔
ملک ریاض نے کہا کہ تمام تر مشکلات اور دباؤ کے باوجود پاکستان سے عشق، وفاداری اور خدمت کا جذبہ آج بھی ان کے دل میں زندہ ہے، اور انہیں یقین ہے کہ پاکستانی ادارے انصاف، عقل اور تدبر سے کام لیں گے۔
انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ حکومتی اداروں کے مسلسل دباؤ، درجنوں اسٹاف ارکان کی گرفتاریوں، کمپنی کے بینک اکاؤنٹس کی منجمدی، عملے کی گاڑیوں کی ضبطی، اور دیگر سخت اقدامات کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن کا ملک بھر میں آپریشن مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
"ہم اپنے اسٹاف کی تنخواہیں تک ادا کرنے کے قابل نہیں رہے،” ملک ریاض نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال صرف کمپنی کے کاروبار ہی کو نہیں بلکہ ہزاروں ملازمین اور ان کے خاندانوں کے روزگار کو بھی شدید خطرے میں ڈال چکی ہے۔
ملک ریاض کا بیان ملکی سیاسی، قانونی اور معاشی حلقوں میں بڑی ہلچل پیدا کر رہا ہے، جب کہ یہ پیشرفت پاکستان کی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

