اسلام آباد (بیورو رپورٹ) — اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا ہے کہ ترسیلات زر کی ریکارڈ سطح (38.3 ارب ڈالر) کے باوجود، حکومت نے ترسیلات زر کے لیے بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو دی جانے والی انعامی رقوم میں کمی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
لاہور میں 8 گھنٹے کی 136 ملی میٹر تاریخی بارش نے تباہی مچادی، نشیبی علاقے زیر آب، 2 افراد جاں بحق
اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر عنایت حسین نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ:
ترسیلات پر انعامی رقم اب یکساں 20 ریال فی ٹرانزیکشن کر دی گئی ہے۔
پہلے یہ شرح 20، 27 اور 35 ریال تک مختلف ہوتی تھی، جو بہتر کارکردگی پر زیادہ انعام دیتی تھی۔
اب کم از کم اہل ترسیل کی حد بھی 100 ڈالر سے بڑھا کر 200 ڈالر کر دی گئی ہے۔
انعامی ماڈل پر تحفظات
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ اگرچہ 2009 میں پاکستان ریمٹینس انیشی ایٹو (PRI) کے آغاز کے بعد ترسیلات تقریباً دگنی ہو چکی ہیں، لیکن انعامی ادائیگیاں بھی غیر معمولی طور پر 130 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
کمیٹی نے زور دیا کہ انعامی رقوم کا فائدہ براہ راست اوورسیز پاکستانیوں تک پہنچنا چاہیے نہ کہ صرف مالیاتی اداروں تک۔
ممکنہ بدعنوانی اور نظامی کمزوریاں
ڈپٹی گورنر نے انکشاف کیا کہ:
انعامی نظام فی لین دین کے حساب سے ہے، جس سے بعض بینک ترسیلات کو مصنوعی طور پر چھوٹے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
سینیٹرز نے تجویز دی کہ انعامات مجموعی ترسیلات سے منسلک کیے جائیں، تاکہ غلط استعمال سے بچا جا سکے۔
پے پاک (PayPak) پر زور
کمیٹی نے غیر ملکی ڈیبٹ کارڈز کے بڑھتے استعمال اور اس سے جڑے زرمبادلہ کے نقصانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا:
بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ PayPak کو تمام صارفین کے لیے بطور آپشن لازمی قرار دیا جائے۔
سینیٹرز نے کہا کہ صارفین کو حقیقت میں بین الاقوامی نیٹ ورکس (Visa, MasterCard) کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے توازن اور غیر ملکی کمپنیوں کو مساوی مواقع دینے پر زور دیا۔
دیگر اہم امور
اجلاس میں ایران کے ساتھ بارٹر تجارت، ایف بی آر انعامات، اور ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے جیسے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔
