افغانستان دہشت گردوں کی بھرتی اور شدت پسندی کا مرکز بن گیا، روسی خفیہ ایجنسی کا انکشاف

روسی خفیہ ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی بھرتی اور شدت پسندی پھیلانے کا اہم مرکز بن چکا ہے جہاں سے مختلف شدت پسند تنظیمیں خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ژوب میں جوانوں کے ساتھ عید منائی، دہشت گردی کے خلاف عزم کا اعادہ

روسی جریدے کی رپورٹ کے مطابق روسی خفیہ ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ داعش خراسان (ولایت خراسان) وسطی ایشیائی ممالک سے افراد کو دہشت گرد نیٹ ورکس میں شامل کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش خراسان تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان، قازقستان اور روسی مزدوروں کو بھی اپنے نیٹ ورک کا حصہ بنا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق داعش خراسان وسطی ایشیا میں خفیہ دہشت گرد نیٹ ورکس قائم کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے جبکہ تاجکستان اور ازبکستان میں داعش سے وابستہ دہشت گردوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں آچکی ہیں۔

روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے خبردار کیا کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کے جنگجو موجود ہیں جو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان بھی متعدد بار افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات سے متعلق عالمی برادری کو آگاہ کر چکا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں اور یہ ملک دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

One thought on “افغانستان دہشت گردوں کی بھرتی اور شدت پسندی کا مرکز بن گیا، روسی خفیہ ایجنسی کا انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!