خالد قادری پر قاتلانہ حملے کی عدم گرفتاری پر پاکستان سنی تحریک کا علامتی بھوک ہڑتال کیمپ، سخت احتجاج کی وارننگ

کراچی: پاکستان سنی تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے پارٹی رہنما خالد قادری پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف علامتی بھوک ہڑتال کیمپ لگایا گیا، جس میں انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔

حمزہ طبانی کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا، صدر مملکت کی جانب سے قومی خدمات کا اعتراف

کیمپ میں مرکزی و صوبائی قیادت اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر انصاف کے حصول کے نعرے درج تھے۔

مرکزی صدر بلال عباس قادری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے صرف طفل تسلیاں دی جا رہی ہیں جبکہ اصل ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں موجود ملزمان کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کارکنان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور بلاجواز گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، تاہم پاکستان سنی تحریک اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مرکزی سیکرٹری جنرل بلال سلیم قادری شامی نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ سے امن پسند رہی ہے اور ملک میں استحکام کیلئے کردار ادا کرتی رہی ہے، تاہم مسلسل ناانصافیوں نے کارکنان میں اضطراب پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامتی بھوک ہڑتال کا مقصد صرف یہ ہے کہ خالد قادری پر حملے میں ملوث تمام افراد اور ان کے سرپرستوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

بلال سلیم قادری شامی نے خبردار کیا کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو قیادت سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

کیمپ کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!