سندھ کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں میں شامل کندھ کوٹ گهوٹکی پل ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آگیا ہے، جہاں جاری تعمیراتی کام کے دوران مبینہ غفلت اور ناقص معیار کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس میگا منصوبے میں تقریباً 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا تیار شدہ گارڈر اچانک گر پڑا، جس کے بعد منصوبے کی شفافیت، تعمیراتی معیار اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ایرانی اداکارہ مندانا کریمی کا 16 سال بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان
واقعے کے وقت خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم حادثے نے شہریوں اور علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بغیر کسی اضافی وزن یا دباؤ کے گارڈر زمین بوس ہوسکتا ہے تو مستقبل میں اس پل سے گزرنے والے ہزاروں شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ منصوبے میں ناقص اور غیر معیاری تعمیراتی میٹریل استعمال کیا جارہا ہے جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان ہے، جس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ کندھ کوٹ گهوٹکی پل منصوبے کا آغاز 2018 میں کیا گیا تھا، جس کی ابتدائی لاگت تقریباً 16 ارب روپے بتائی گئی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ منصوبے کی لاگت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا اور اب یہ رقم بڑھ کر تقریباً 80 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ منصوبے کا افتتاح جون 2026 میں متوقع تھا، لیکن حالیہ حادثے نے تعمیراتی معیار اور منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، قومی احتساب بیورو (نیب)، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر وفاقی تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گارڈر گرنے کے واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ممکنہ غفلت، بدعنوانی اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جاسکے۔
شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل، فنڈز، ٹھیکیدار کمپنیوں اور نگرانی کرنے والے اداروں کا مکمل فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کے ٹیکس سے مکمل ہونے والے اس اہم منصوبے میں کسی بھی قسم کی مالی بے ضابطگی یا کرپشن کو سامنے لایا جاسکے۔
حیران کن طور پر واقعے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ تو متعلقہ حکام اور نہ ہی تعمیراتی کمپنی کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف جاری کیا گیا، جس سے شہریوں کے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
