پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے “معرکۂ حق” کے بعد مربوط حکمت عملی، مؤثر سفارتکاری اور فعال خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی سطح پر ملک کا کردار مزید مضبوط کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر اہم مشاورت
جنگی میدان میں مبینہ کامیابی کے بعد پاکستان نے عالمی فورمز پر اپنے اصولی مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا، جس کے نتیجے میں ملک کی سفارتی پوزیشن میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت نے پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر جبکہ بھارت کو سفارتی سطح پر دباؤ کا سامنا کرنے والی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستانی قیادت نے اس دوران مختلف اہم ممالک بشمول امریکا، چین، سعودی عرب، ترکیہ، روس اور ایران کی قیادت سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں، جنہیں سفارتی روابط کے فروغ میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
خاص طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوا ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو “نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر” کے طور پر بھی سراہا جا رہا ہے، جبکہ مختلف بین الاقوامی حلقوں کے مطابق پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی نے خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو بہتر بنایا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستانی قیادت کو سراہتے ہوئے اسے مضبوط اور غیر معمولی قیادت قرار دیا، جبکہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کو بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جسے متوازن سفارتکاری کا عملی مظہر سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فعال سیاسی و عسکری رابطہ کاری اور مربوط خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان عالمی سطح پر ایک مؤثر سفارتی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ خطے میں اس کا کردار مزید اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
