خیبرپختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مستقل نفری، انفرا اسٹرکچر اور جدید آلات کی شدید کمی کا سامنا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کا انکشاف، منظم نیٹ ورک بے نقاب
سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ دار اس فورس کی مجموعی نفری 3 ہزار 844 اہلکاروں پر مشتمل ہے، تاہم مستقل ملازمین کی تعداد صرف 25 ہے۔ زیادہ تر نفری پولیس سے حاصل کیے گئے عارضی ایگزیکٹو اہلکاروں پر مشتمل ہے۔
دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صوبے میں سی ٹی ڈی کا باقاعدہ مستقل ہیڈکوارٹر اور مکمل ضلعی دفاتر موجود نہیں، جبکہ 21 ضلعی دفاتر زیر تعمیر ہیں۔
فورس کو وسائل کے لحاظ سے بھی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں صرف 17 بلٹ پروف ڈبل کیبن گاڑیاں شامل ہیں، جبکہ جدید فرانزک سہولیات، لوکیٹرز، جیمرز، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر تکنیکی آلات کی کمی بھی نمایاں ہے، جس سے آپریشنل صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
دستاویزات کے مطابق 638 فیلڈ آپریٹرز کی بھرتی کا عمل شروع کیا گیا ہے جو تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
ان کے مطابق حالیہ عرصے میں امن و امان کے شعبے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق سی ٹی ڈی کی بہتری کے لیے 7 ارب 77 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 7 ارب 5 کروڑ روپے جاری بھی ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ان رقوم سے جدید اسلحہ، ڈرونز، اینٹی ڈرون گنز، بلٹ پروف گاڑیاں، لوکیٹرز اور جیمرز خریدے گئے ہیں، جبکہ سی ٹی ڈی کا دائرہ کار تمام اضلاع تک بڑھانے پر بھی کام جاری ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر کی توسیع اور فورس کی مجموعی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے پر پیش رفت جاری ہے۔