ایران پر امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی، جھڑپوں کا دعویٰ

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد آبنائے ہرمز کے علاقے میں امریکی افواج اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی میں نفری، انفرا اسٹرکچر اور جدید آلات کی شدید کمی کا انکشاف

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے مختلف شہروں اور اسٹریٹجک مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جن میں صوبہ فارس، مغربی تہران، بندر عباس، مینا ب، سیرک، قشم، ہینگام اور جزیرہ کیش شامل ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بندرگاہ گرگان کے علاقے میں بھی دھماکے ہوئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران میں متعدد اہداف پر “دفاعی نوعیت کے اضافی حملے” کیے گئے ہیں۔ کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی مسلسل اور بلاجواز جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا نے جنوبی ایران میں فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی بڑھ گئی ہے اور ایرانی افواج نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جن پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق جھڑپوں کے دوران خطے میں سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

امریکی حکام کے مطابق کارروائیاں “امریکی مفادات کے تحفظ” کے لیے کی جا رہی ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے اسے “جوابی دفاعی کارروائی” قرار دیا جا رہا ہے۔

One thought on “ایران پر امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی، جھڑپوں کا دعویٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!