افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کا انکشاف، منظم نیٹ ورک بے نقاب

افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ کے غیر قانونی اجرا کے معاملے پر ایف آئی اے کی تفتیش جاری ہے جس میں ایک منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
مصطفیٰ کمال: صحت کا نظام قومی سلامتی کا معاملہ ہے، تھیلیسیمیا اسکریننگ لازمی بنانے کا اعلان

حکام کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوا ہے کہ ایک منظم مجرمانہ گروہ، جس میں سہولت کار، ایجنٹس، فرضی شناخت رکھنے والے افراد اور بعض سرکاری اہلکار شامل ہیں، جعلی اور مشتبہ دستاویزات کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی ظاہر کر کے پاسپورٹ جاری کروانے میں ملوث ہے۔

تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک نے فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس (FRC)، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات میں ردوبدل اور جعلسازی کے ذریعے شہریوں کی شناخت تبدیل کرنے کا سلسلہ چلایا۔

ذرائع کے مطابق کراچی کے پاسپورٹ آفس عوامی مرکز برانچ سے مجموعی طور پر 72 افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کیے گئے، جن میں سے 53 کیسز اسسٹنٹ ڈائریکٹر فاروق سیال اور 19 کیسز نائٹ شفٹ انچارج محمد باقر رضا نے پراسیس کیے۔

ایف آئی اے کے مطابق یہ پاسپورٹ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور اہم حقائق چھپا کر جاری کیے گئے۔ معاملے کی اطلاع پر ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کراچی میں انکوائری درج کی گئی، جس کے بعد تمام ریکارڈ تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

ابتدائی جانچ میں متعدد مشکوک پہلو سامنے آئے ہیں، جن میں جعلی یا مشتبہ دستاویزات، ایک جیسے رابطہ نمبرز، تصاویر میں ردوبدل اور بار بار استعمال ہونے والے شناختی پیٹرنز شامل ہیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ تمام عوامل ایک منظم منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس میں ممکنہ طور پر ایجنٹس اور بعض اہلکاروں کی ملی بھگت شامل تھی۔ ایف آئی اے نے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

One thought on “افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کا انکشاف، منظم نیٹ ورک بے نقاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!