وزیر قانون و داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار ہائی کورٹ کراچی پہنچے جہاں سندھ بار کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وکلا برادری کے مسائل، سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
معرکۂ حق کے بعد پاکستان کی سفارتی برتری، مؤثر خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر بڑھتا ہوا کردار
وزیر قانون نے اجلاس میں بطور ممبر شرکت کی جبکہ بعد ازاں سندھ بار کونسل کے ظہرانے میں بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں وائس چیئرمین اشتیاق میمن، ایگزیکٹو چیئرمین ایاز تنیو، آصف سومرو، قربان ملانو، عامر نواز وڑائچ سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں وکلا کے بینیولنٹ فنڈ میں 300 فیصد اضافے کی تجویز پر غور کیا گیا جبکہ سالانہ گرانٹ میں اضافے کی بھی سفارش سامنے آئی۔ وکلا کے لیے کراچی میں خصوصی ریڈ بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت چار مختلف روٹس پر بسیں چلائی جائیں گی۔
وزیر قانون کے مطابق یہ سہولت صرف کراچی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ حیدرآباد، میرپورخاص، لاڑکانہ اور سکھر میں بھی وکلا کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ سروس شروع کی جائے گی۔
اجلاس میں وکلا کے لیے ہاسٹل اور ہسپتال منصوبے پر بھی پیشرفت رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ دونوں منصوبوں کے پی سی ون کی تیاری مکمل ہونے اور فیزیبلٹی رپورٹ حکومت سندھ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مزید تجاویز میں میڈیکل گرانٹس میں اضافہ، نوجوان وکلا کے لیے انٹرن شپ پروگرام، رعایتی فضائی سفر، رہائشی پلاٹس کی فراہمی اور بار کونسل لائبریریوں و ڈیجیٹل سہولیات کی بہتری شامل ہیں۔
سندھ بار کونسل کے فنڈز کے آڈٹ کی تجویز بھی زیر غور آئی جبکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک جامع کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو تمام سفارشات پر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیر قانون نے کہا کہ وکلا برادری کے مسائل کے حل کے لیے حکومت سندھ مکمل تعاون جاری رکھے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
