ٹرمپ کا ایران پر حملے روکنے کا اعلان، تہران کی جانب سے ردعمل

واشنگٹن / تہران (22 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر ممکنہ حملوں کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی سفیر سے ملاقات، خطے میں امن و استحکام پر اتفاق

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی قیادت نے امریکا سے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی اس وقت تک مؤخر کی جائے جب تک ایرانی قیادت کی متفقہ تجاویز سامنے نہیں آ جاتیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جا رہی ہے جب تک مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا اور ایران کی جانب سے باضابطہ تجاویز پیش نہیں کی جاتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مکمل طور پر الرٹ رہے اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہے۔

دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے امریکی صدر کے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف جاری اقدامات دراصل جارحیت کے مترادف ہیں، اور اس کا جواب مناسب فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔

ایرانی مؤقف کے بعد خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

2 thoughts on “ٹرمپ کا ایران پر حملے روکنے کا اعلان، تہران کی جانب سے ردعمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!