کراچی (22 اپریل 2026): انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں صوبے بھر میں منشیات اور گٹکا/ماوا مافیا کے خلاف پولیس اقدامات کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی، اسپیشل برانچ، ڈی آئی جی سی آئی اے، زونل ڈی آئی جیز، ضلعی ایس ایس پیز، ایس پی انویسٹی گیشنز کراچی، ایس ایس پی ایس آئی یو اور اے آئی جیز نے بالمشافہ جبکہ دیگر ڈویژنز کے افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اسپیکر سندھ اسمبلی کی کامران ٹسوری سے تعزیت
اجلاس کے دوران ڈی آئی جی اسپیشل برانچ نے شرکاء کو رواں ماہ اے پلس کیٹیگری میں شامل منشیات اور گٹکا/ماوا مافیا کے خلاف کیے گئے اقدامات، ٹاسک فورس کی کارکردگی اور جاری پولیس کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اے پلس کیٹیگری میں شامل عناصر کے خلاف صوبے بھر میں بھرپور کارروائیاں جاری ہیں، تاہم ان کارروائیوں کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ضمانت پر رہا ہونے والے بعض منشیات فروش دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں، جس پر آئی جی سندھ نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔ جاوید عالم اوڈھو نے اے پلس کیٹیگری میں شامل ملزمان کے خلاف جاری کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حیدرآباد کے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کی غیرمعمولی کارکردگی کو سراہا۔
آئی جی سندھ نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ منشیات اور گٹکا/ماوا مافیا کے نیٹ ورک اور ان کے گٹھ جوڑ کے خلاف کارروائیوں کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز اسپیشل برانچ کے ساتھ مشاورت سے مافیا سے متعلق معلومات اور فہرستوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کریں۔
اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر قرار دیا گیا، تاہم کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ شہری و دیہی دونوں علاقوں میں کارروائیوں کا دائرہ وسیع اور تیز کیا جائے اور منشیات فروشوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے خلاف پولیس اقدامات کے حوالے سے عوامی تاثر کو بہتر بنانا ناگزیر ہے، جبکہ افسران اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لائیں، کیونکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

