پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک میں پیک ٹائم کے دوران بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے باعث لوڈ مینجمنٹ کا دورانیہ بھی محدود رہا۔
پہلگام واقعہ فالس فلیگ آپریشن تھا، بھارت شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا عطا تارڑ
ترجمان کے مطابق گزشتہ رات پیک اوقات میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں 5125 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی، جس سے سسٹم پر دباؤ کم ہوا اور سپلائی بہتر رہی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کے جنوبی حصے سے سینٹر تک 400 میگاواٹ بجلی کی ترسیل گرڈ میں استحکام کے باعث ممکن ہوئی، جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے بہتر سپلائی کے نتیجے میں صرف ایک سے دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایل این جی کی دستیابی کی صورت میں پیک ٹائم کے دوران لوڈ مینجمنٹ مکمل طور پر ختم کی جا سکتی ہے، تاہم اس وقت ایل این جی کی کمی کے باعث 5500 میگاواٹ صلاحیت کے حامل پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہو پا رہی۔
دوسری جانب لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ترجمان نے بتایا کہ لیسکو ریجن میں بجلی کی طلب 2421 میگاواٹ جبکہ سپلائی 2550 میگاواٹ ہے، جس کے باعث کسی قسم کا شارٹ فال موجود نہیں۔
لیسکو کے مطابق بہتر سپلائی کے باعث صرف ایک سے دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی گئی، جبکہ دن کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ صرف ان فیڈرز تک محدود ہے جہاں لائن لاسز زیادہ ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ لوڈ مینجمنٹ کا مقصد نظام کو مستحکم رکھنا اور طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
