طالبان حکومتی ڈھانچے پر تہلکہ خیز انکشافات، 20 فیصد رہنما دھماکوں اور خودکش حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ

ایک امریکی تحقیقاتی ادارے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ میں افغان طالبان کے حکومتی ڈھانچے اور قیادت سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کے 20 فیصد سے زائد رہنما ماضی میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں۔
لوزیانا میں اندوہناک فائرنگ، ایک شخص کی مختلف گھروں پر حملے میں 8 بچے جاں بحق

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں 13 سے 14 ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں افغان عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزیراعظم، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت متعدد اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر طالبان سے وابستہ 135 افراد اور 5 ادارے عالمی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ ان افراد پر سفری پابندیاں، اثاثوں کی منجمدی اور اسلحہ کی خریداری پر قدغنیں عائد ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان قیادت کے ایک بڑے حصے کا تعلق ماضی میں عسکری کارروائیوں اور شدت پسند سرگرمیوں سے رہا ہے، جو خطے کی صورتحال کے لیے ایک مسلسل چیلنج بن سکتا ہے۔

One thought on “طالبان حکومتی ڈھانچے پر تہلکہ خیز انکشافات، 20 فیصد رہنما دھماکوں اور خودکش حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!