پولیو مہم کامیاب، 79 اضلاع میں 1.86 کروڑ بچوں کو قطرے پلائے گئے

اسلام آباد: وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق کی زیر صدارت پولیو جائزہ اجلاس میں حالیہ قومی انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نیشنل ای او سی کے مطابق ملک بھر کے 79 اضلاع میں ایک کروڑ 86 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے، جبکہ فالو اپ سرگرمیوں کے ذریعے ویکسین سے محروم رہ جانے والے 88 فیصد بچوں تک رسائی حاصل کر لی گئی۔

مہم کی کارکردگی اور اہم اعداد و شمار

نیشنل ای او سی کے مطابق حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران مختلف صوبوں اور علاقوں میں لاکھوں بچوں کو پولیو ویکسین فراہم کی گئی۔

پنجاب کے 10 مخصوص اضلاع میں 60 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی، جبکہ سندھ کے 20 اضلاع میں 57 لاکھ 40 ہزار بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلائے گئے۔

اسی طرح خیبرپختونخوا کے 23 اضلاع میں 43 لاکھ 90 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی، جبکہ بلوچستان کے 25 اضلاع میں 19 لاکھ 60 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تقریباً 4 لاکھ 35 ہزار بچوں کو پولیو ویکسین فراہم کی گئی۔

پس منظر: پولیو کے خاتمے کی قومی کوششیں

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل قومی اور صوبائی سطح پر مہمات جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران ویکسین دینا وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے ضروری ہے۔

نیشنل ای او سی اور صوبائی محکمہ صحت کے ادارے باقاعدگی سے انسداد پولیو مہمات کے ذریعے بچوں تک رسائی یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

عائشہ رضا فاروق کا بیان

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ حالیہ انسداد پولیو مہم کی کامیابی پولیو ورکرز کی انتھک محنت اور مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل اور اعلیٰ معیار کی ویکسینیشن مہمات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین ہر پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

عائشہ رضا فاروق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کے معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی مکمل تکمیل ان کے جامع اور مؤثر تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔

فالو اپ مہم سے محروم بچوں تک رسائی

نیشنل ای او سی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں گھروں پر عدم دستیابی کے باعث 2.1 فیصد بچے پولیو ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔

بعد ازاں بڑے پیمانے پر فالو اپ سرگرمیاں انجام دی گئیں، جن کے نتیجے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں میں سے 88 فیصد تک کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کر لی گئی۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت مہم کی مؤثریت اور نگرانی کے نظام کی عکاسی کرتی ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل

حکام کے مطابق ملک میں پولیو کے مکمل خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے آئندہ بھی مسلسل ویکسینیشن مہمات، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور والدین میں آگاہی بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

بچوں کی بروقت ویکسینیشن اور ہر مہم میں مکمل شرکت کو پولیو فری پاکستان کے لیے کلیدی عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!