ایران جوہری پروگرام پر امریکہ-ایران مذاکرات ناکام، روس کی ثالثی کی پیشکش

واشنگٹن / تہران / ماسکو: ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی سے متعلق جاری بین الاقوامی مذاکرات ایک بار پھر کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران متعدد معاملات پر پیش رفت ہوئی تھی تاہم یورینیم کے معاملے پر فریقین کے درمیان اتفاق نہ ہو سکا۔

بحیرہ عرب میں مشترکہ بحری آپریشن، غیر قانونی شراب کی بڑی کھیپ برآمد

امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ کئی نکات پر سمجھوتا طے پا رہا تھا مگر جوہری مواد اور افزودگی کے مسئلے پر اختلاف برقرار رہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے مذاکرات میں سخت رویہ اختیار کیا۔ تاہم ان بیانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والی مبینہ بات چیت کے بعد ایران نے دوبارہ رابطہ کیا، جبکہ ان کے مطابق ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں امریکی صدر کی جانب سے ایران کے بحری اثاثوں اور جہازوں سے متعلق سخت مؤقف بھی سامنے آیا، تاہم ان دعوؤں کی بھی آزاد تصدیق موجود نہیں۔

دوسری جانب عالمی سفارتی حلقوں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہونے کے بعد روس نے ثالثی کی نئی پیشکش سامنے رکھی ہے۔

کریملن کے مطابق ولادیمیر پوٹن نے تجویز دی ہے کہ ممکنہ مستقبل کے معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم کو روس اپنی نگرانی میں رکھنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔

روس نے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی توانائی منڈی اور تجارت پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

تاحال ایران کی جانب سے روسی پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ امریکہ نے بھی اس تجویز پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ سفارتی مبصرین کے مطابق صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور کسی بڑے معاہدے کے امکانات غیر یقینی ہیں۔

2 thoughts on “ایران جوہری پروگرام پر امریکہ-ایران مذاکرات ناکام، روس کی ثالثی کی پیشکش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!