اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزاؤں کے خلاف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں کی سماعت کے دوران نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر کی عدم حاضری پر قومی احتساب بیورو (نیب) پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت نے نیب کی متفرق درخواست پر فریقین کو نوٹس بھی جاری کر دیے۔
سپارکو کی پیشگوئی، عیدالفطر 21 مارچ کو ہونے کا امکان
کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر اور سینیئر قانون دان اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے۔
نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر رافع مقصود نے مؤقف اختیار کیا کہ ادارے نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر ایک متفرق درخواست دائر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس درخواست پر جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیا جائے تو نیب بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر بھی جواب جمع کرا دے گا۔
اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج اسپیشل پراسیکیوٹر عدالت میں کیوں موجود نہیں ہیں اور وہ دلائل دینے سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں۔
دوسری جانب سینیئر وکیل اعتزاز احسن نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں قیدی کو رہا کرنا ثواب کا باعث سمجھا جاتا ہے۔
عدالت نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے نیب پر جرمانہ عائد کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جس پر اسپیشل پراسیکیوٹر کی عدم حاضری کے باعث نیب پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں نیب کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت پر نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر لازمی طور پر عدالت میں پیش ہوں گے۔
