کراچی: حکومت سندھ نے چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari کی ہدایت پر سندھ یوتھ کارڈ پروگرام کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ وزیر کھیل و امور نوجوانان Sardar Muhammad Bakhsh Mehr کے مطابق مسودہ جلد قانونی جانچ پڑتال کے بعد سندھ کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ملیر پولیس کی کارروائی، منشیات فروش گرفتار اور نشہ آور اشیاء برآمد
مسودے کی تفصیلات کے مطابق پہلے مرحلے میں سندھ کے 30 اضلاع کے ایک لاکھ نوجوانوں کو یوتھ کارڈ فراہم کیا جائے گا۔ یہ کارڈ 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور اسے Sindh میں ڈومیسائل رکھنے والے نوجوان حاصل کر سکیں گے۔
وزیر کھیل کے مطابق نوجوانوں کو صوبے بھر کے یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز میں تربیت دی جائے گی اور انہیں فعال بنایا جائے گا۔ کارڈ گرلز، بوائز، اقلیتی اور خصوصی افراد کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔
سندھ یوتھ کارڈ رکھنے والے نوجوان اسکالرشپ، بلاسود قرض، انٹرنشپ اور بیرونِ ملک روزگار کے لیے تربیت حاصل کر سکیں گے۔ نوجوان خواتین کے لیے پنک اسکوٹی یا متبادل آمد و رفت کے ذرائع کی فراہمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پروگرام کے تحت نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
مسودہ پہلے محکمہ قانون کو قانونی جانچ کے لیے بھیجا جائے گا اور اس کے بعد سندھ کابینہ میں باضابطہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
