بیجنگ: چین میں ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر کی لائیو اسٹریمنگ کے دوران بیوٹی فلٹر اچانک فیل ہوگیا، جس کے نتیجے میں ان کا قدرتی چہرہ ناظرین کے سامنے آگیا اور واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
عماد بٹ پر عائد دو سالہ پابندی ختم، پاکستان ہاکی میں نئی شروعات کا اعلان
رپورٹس کے مطابق خاتون انفلوئنسر اپنے فالوورز کے ساتھ لائیو سیشن میں مصروف تھیں اور معمول کے مطابق جدید بیوٹی فلٹرز استعمال کر رہی تھیں، جو جلد کو ہموار، آنکھوں کو بڑا اور چہرے کو زیادہ پرکشش ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم نشریات کے دوران فلٹر میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی اور ان کا اصل چہرہ واضح ہوگیا، جس میں جلد کی قدرتی ساخت اور عمر کے اثرات نمایاں تھے۔
واقعے کے فوری بعد انفلوئنسر کو بڑا دھچکا لگا اور صرف چند گھنٹوں میں ان کے تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار فالوورز کم ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق تحائف اور ڈونیشنز میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو لائیو اسٹریمنگ انڈسٹری میں آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ کچھ صارفین نے انفلوئنسر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فلٹرز کے ذریعے مداحوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر کا مؤقف تھا کہ بیوٹی فلٹرز آن لائن تفریح اور ڈیجیٹل کلچر کا حصہ ہیں اور انہیں دھوکہ دہی قرار دینا درست نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فلٹرز اور ایڈیٹنگ ٹولز کا استعمال عام ہے، لیکن ایسے واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ آن لائن پیش کی جانے والی شخصیت ہمیشہ حقیقی زندگی کی عکاس نہیں ہوتی۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی لائیو اسٹریمنگ انڈسٹری میں صداقت، خوبصورتی کے معیارات اور ڈیجیٹل شفافیت کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
