پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ حقیقی دنیا کے اثاثوں (ریئل ورلڈ ایسٹس) کی ٹوکنائزیشن سے متعلق قومی ایجنڈے پر اہم اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس وزیراعظم آفس میں ہوا جس میں یو اے ای کے معروف ڈیماک گروپ اور ڈی ایف ایس اے سے ریگولیٹڈ رئیل اسٹیٹ فن ٹیک پلیٹ فارم پریپکو (PRYPCO) کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کراچی پہنچ گئے، پی ٹی آئی کے بڑے جلسے کا اعلان
اجلاس میں رئیل اسٹیٹ، سرکاری اثاثوں اور مستقبل کے قرض جاتی آلات کی ٹوکنائزیشن کو ایک منظم اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک کے تحت فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کی، جبکہ اتھارٹی کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ٹوکنائزیشن کو ایک اسٹریٹیجک معاشی ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ غیر فعال اثاثوں کو فعال بنایا جا سکے، غیر ملکی اور ڈائسپورا سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور اضافی مالی دباؤ کے بغیر مالی شفافیت میں اضافہ ممکن ہو۔
اجلاس کے دوران اتھارٹی کی جانب سے پاکستان کے ابھرتے ہوئے ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری فریم ورک پر بریفنگ دی گئی، جسے جدت کے فروغ کے ساتھ مضبوط گورننس، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور مارکیٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
اجلاس میں پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الزعابی نے بھی شرکت کی، جو ریگولیٹڈ ڈیجیٹل فنانس اور سرحد پار سرمایہ کاری میں دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان ٹوکنائزیشن کو محض ایک محدود مالی تصور نہیں بلکہ ایک قومی معاشی محرک کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رئیل اسٹیٹ اس سفر کا قدرتی نقطۂ آغاز ہے، تاہم وژن سرکاری اثاثوں اور مستقبل کے قرض جاتی آلات تک پھیلا ہوا ہے، جو ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ہوں گے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد اور طویل المدتی ساکھ قائم کی جا سکے۔
