کراچی: سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد خان نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھتے ہوئے کراچی اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پلان 2020 (کے ایس ڈی پی 2020) پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
خط میں طحہ احمد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ کے ایس ڈی پی 2020 کو سال 2007 میں منظور کیا گیا جبکہ 2018 میں اسے باقاعدہ گزٹ کیا گیا، اس کے باوجود اس پر عملدرآمد نہ ہونا کراچی کے شہریوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایس ڈی پی 2020 کراچی کی ترقی، منصوبہ بندی اور مستقبل کی بنیادی دستاویز ہے، جسے نظرانداز کرنا آئینی اور انتظامی ناکامی کے مترادف ہے۔
ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ منظور شدہ اور گزٹ شدہ منصوبے کی موجودگی کے باوجود اس پر عمل نہ ہونا سنگین انتظامی غفلت ہے، جس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی بقا اور ترقی کے ایس ڈی پی 2020 پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔
طحہ احمد خان نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ اداروں کو کے ایس ڈی پی 2020 کے مطابق کام کرنے کا پابند بنایا جائے اور اس منصوبے سے متصادم تمام فیصلے اور احکامات فوری طور پر واپس اور منسوخ کیے جائیں۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ کے ایس ڈی پی 2020 پر عملدرآمد کے لیے واضح ٹائم لائن دی جائے اور وزیراعلیٰ سندھ اس حوالے سے فوری پیش رفت رپورٹ بھی جاری کریں۔

