سندھ پیڈل اوپن چیمپئن شپ 2026 میں نمیر شمسی اور نتالیہ زمان کی شاندار کامیابی

کراچی میں منعقد ہونے والی سندھ پیڈل چیمپئن شپ 2026 اپنے اختتام کو پہنچ گئی، جہاں مردوں اور خواتین کے مقابلوں میں کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ تین روز تک جاری رہنے والے اس ایونٹ نے نہ صرف نوجوان ٹیلنٹ کو اجاگر کیا بلکہ سندھ میں پیڈل کھیل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بھی نمایاں کیا۔

مزید یہ کہ سندھ حکومت کے زیر اہتمام ہونے والی سندھ پیڈل چیمپئن شپ میں مجموعی طور پر 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم تقسیم کی گئی۔ اس ایونٹ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کیونکہ اس میں صوبے بھر سے متعدد ٹیموں نے شرکت کی اور سخت مقابلے دیکھنے میں آئے۔

نمیر شمسی اور عذیر احمد کی فتح

بوائز اوپن کیٹیگری میں نمیر شمسی اور عذیر احمد نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل عمدہ کھیل پیش کیا اور فائنل میں کامیابی اپنے نام کی۔

دوسری جانب ریان یونس اور عبداللہ شیراز رنر اپ قرار پائے۔ مقابلوں کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ شائقین نے بھی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بھرپور سراہا۔

نتالیہ زمان اور سائرہ عمر نمایاں رہیں

خواتین کی کیٹیگری میں نتالیہ زمان اور سائرہ عمر نے کامیابی حاصل کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے پورے ایونٹ میں عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور فائنل میں فتح حاصل کرکے چیمپئن بن گئیں۔

اسی طرح مصفرا زاہد اور صائمہ طلحہ رنر اپ رہیں۔ خواتین مقابلوں میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جس سے واضح ہوا کہ پیڈل کھیل میں خواتین کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

منور علی مہیسر نے انعامات تقسیم کیے

اختتامی تقریب میں سیکریٹری کھیل سندھ منور علی مہیسر، پارلیمانی سیکریٹری کھیل صائمہ آغا، ڈائریکٹر کھیل اسد اسحاق اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران کامیاب کھلاڑیوں اور ٹیموں میں ٹرافیاں، میڈلز اور نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔

منور علی مہیسر نے بتایا کہ چیمپئن شپ کے لیے مجموعی طور پر 10 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق مختلف کیٹیگریز میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں کو یہ انعامی رقم دی گئی۔

سندھ پیڈل چیمپئن شپ میں انعامی رقم

سیکریٹری کھیل سندھ کے مطابق اوپن کیٹیگری میں فاتح ٹیم کو 3 لاکھ روپے جبکہ رنر اپ ٹیم کو 2 لاکھ روپے کا نقد انعام دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔

مزید برآں دیگر کیٹیگریز کے کامیاب کھلاڑیوں کو بھی انعامات اور اعزازی اسناد دی گئیں۔ اس وجہ سے ایونٹ میں شریک کھلاڑیوں نے اس اقدام کو مثبت قرار دیا۔

منور علی مہیسر کا پیڈل کھیل پر مؤقف

منور علی مہیسر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیمپئن شپ میں بوائز کی 32 جبکہ ویمنز کی 16 ٹیموں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق تین روز تک جاری رہنے والے مقابلوں میں دلچسپ اور سنسنی خیز کھیل دیکھنے کو ملا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایونٹ کا مقصد سندھ میں پیڈل کھیل کے فروغ، نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع فراہم کرنے اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق ایسے مقابلے نئے ٹیلنٹ کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سندھ محکمہ کھیل کی کاوشیں

اختتامی تقریب میں شریک کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین نے ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر محکمہ کھیل سندھ کی کاوشوں کو سراہا۔ شرکاء کے مطابق اس نوعیت کے مقابلے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایسے ایونٹس کا تسلسل برقرار رہا تو سندھ میں پیڈل کھیل مزید ترقی کر سکتا ہے اور قومی سطح پر نئے کھلاڑی سامنے آسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!