غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس پاکستان کی شمولیت پر غور امریکا کا اظہارِ تشکر

پاکستان نے گزشتہ منگل کو قطر میں منعقدہ ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی، جس کی میزبانی امریکی سینٹرل کمانڈ نے کی۔ کانفرنس میں مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کے کمانڈ اسٹرکچر اور دیگر زیرِ التوا آپریشنل امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں تقریباً 45 ممالک نے شرکت کی، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔
ورلڈ بینک کا پاکستان میں مالی اصلاحات کے لیے 1.35 ارب ڈالر کے پروگرام کی منظوری

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے غزہ میں امن و استحکام کے لیے مجوزہ فورس میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کا شکر گزار ہے کہ اس نے اس عمل کا حصہ بننے کی پیشکش کی یا کم از کم اس پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک سے باضابطہ وعدہ لینے سے قبل مزید وضاحت اور مشاورت ضروری ہے۔

مارکو روبیو کے مطابق امریکا کے پاس ایسے کئی ممالک موجود ہیں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہیں اور اس فورس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں، اور اگر پاکستان اس پر آمادہ ہو جاتا ہے تو وہ اس فورس کا ایک اہم رکن ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اسٹرکچر اور فنڈنگ کے حوالے سے معاملات پر تاحال غور جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگلا مرحلہ بورڈ آف پیس اور فلسطینی ٹیکنوکریٹک گروپ کے قیام کا ہے، جو غزہ میں روزمرہ حکمرانی میں معاونت فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق جب یہ نظام قائم ہو جائے گا تو اس کے بعد اسٹیبلائزیشن فورس کو حتمی شکل دی جا سکے گی، جس میں مالی معاونت، قواعد اور ڈی ملٹریائزیشن میں کردار کا تعین کیا جائے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق مجوزہ فورس کے لیے فوجی دستوں اور مالی معاونت کے حصول کی غرض سے 70 سے زائد ممالک سے رابطہ کیا جا چکا ہے، جن میں سے اب تک 19 ممالک نے فوج، لاجسٹکس یا آلات کی فراہمی کے ذریعے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق غزہ میں بین الاقوامی تعیناتی آئندہ ماہ کے اوائل میں شروع ہو سکتی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایس ایف کے تحت تقریباً 3 ہزار 500 فوجی تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے، تاہم وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور بات چیت ابتدائی مرحلے میں ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی گزشتہ دو برس کے دوران شدید اسرائیلی حملوں کے باعث بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکی ہے۔ امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے غزہ امن معاہدے کا ایک بنیادی جزو آئی ایس ایف کا قیام ہے، جس کی منظوری اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی دی تھی۔ تاہم فلسطینی تنظیم حماس نے اس قرارداد اور ایسی کسی بین الاقوامی فورس کو مسترد کیا ہے، جس کے مشن میں مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنا شامل ہو۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس پاکستان کی شمولیت پر غور امریکا کا اظہارِ تشکر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!