وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ورلڈ بینک کے ترقیاتی منصوبوں اور نئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر مس بولورما امگابازار کی قیادت میں 10 رکنی وفد نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، چیف سیکریٹری، میئر کراچی، متعلقہ سیکریٹریز اور دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔
کراچی: جمشید کوارٹرز پولیس کی کارروائی، منشیات فروشی میں ملوث دو عادی ملزمان گرفتار
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں کہا کہ ورلڈ بینک کے ساتھ شراکت داری سندھ کے اصلاحاتی اور بحالی ایجنڈے میں اہم حیثیت رکھتی ہے اور بین الاقوامی شراکت داری صوبے کی ترقی و بحالی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ سندھ میں ورلڈ بینک کے 13 منصوبے 3.86 ارب ڈالر کی لاگت سے جاری ہیں، جن میں سے 1.96 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2026 کے لیے 700.25 ملین ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں کراچی کے شہری ترقی، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمپیٹیٹو اینڈ لیویبل سٹی آف کراچی، کراچی موبیلٹی اور سالڈ ویسٹ منصوبوں پر کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کراچی میں پراپرٹی ڈور ٹو ڈور سروے میں 3.1 ملین جائیدادوں کی نشاندہی مکمل ہو چکی ہے، جس سے بلدیاتی اداروں کی پراپرٹی ٹیکس کی آمدن بڑھنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے ایس باس (SBOSS) فیز ٹو کے لانچ اور 13 اداروں کے آن بورڈ ہونے کا بھی ذکر کیا، جبکہ 4 ہزار سے زائد ای-پرمٹس جاری ہو چکے ہیں۔ فیز تھری میں مزید ادارے مئی 2026 تک شامل ہوں گے۔
پانی، نکاسی آب اور آبپاشی کے منصوبوں کو عوامی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج منصوبے، سندھ بیراجز پروجیکٹ، سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن اور دیگر منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
تعلیم کے شعبے میں SELECT منصوبے کے تحت اسکولوں کی اپ گریڈیشن جاری ہے، جن میں 15 اسکول جنوری 2026 تک اور 150 اسکول اپریل 2026 تک مکمل ہونے کا ہدف ہے۔ صحت کے شعبے میں سندھ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن منصوبے کے تحت بنیادی صحت، ماں اور بچے کی صحت کو ترجیحات میں رکھا گیا ہے۔ 171 جنرل ڈیوٹی ڈاکٹرز کی منتقلی اور 238 کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی اور تربیت جلد شروع کی جائے گی۔ ایمبولینسز کی ری لوکیشن 19 دسمبر تک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے پر پیش رفت ہوئی اور 200 ملین ڈالر کے منصوبے کے تحت غربت اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لائیواسٹاک، زراعت، ماحولیاتی بحالی اور سیلاب متاثرین کے لیے بحالی و رہائش کے منصوبوں پر بھی تیز عملدرآمد کی ہدایت دی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ رکاوٹیں دور کی جائیں اور خریداری و فنڈز کے اجرا میں تیزی لائی جائے تاکہ صوبے کے ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں۔
