اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بل پر دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ بل آئین کا حصہ بن گیا ہے۔
سری لنکن ٹیم کو پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ کرنے کے لیے فیلڈ مارشل کی خصوصی کوششیں
سینیٹ آف پاکستان نے بھی 27 ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ سینیٹ نے اس ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔
سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا، جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کا نیا متن پیش کیا اور ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں 27 ویں ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دی گئی تھی، جس میں 8 نئی ترامیم شامل کی گئی تھیں۔ حکومت نے آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں تبدیلی کی، جس کے تحت سنگین غداری کے عمل کو کسی بھی عدالت کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جا سکے گا، اور ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے الفاظ شامل کیے گئے۔
اس ترمیم کے تحت موجودہ چیف جسٹس کو عہدے کی مدت پوری ہونے تک چیف جسٹس پاکستان کہا جائے گا، اس کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے سینئر ترین جج کو چیف جسٹس پاکستان مقرر کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج طلب کیا گیا ہے، جس میں آئینی ترامیم کی روشنی میں قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دی جائے گی۔
