کراچی: شہر میں نافذ کردہ ای چالان سسٹم کی مسلسل خامیوں کی وجہ سے شہری شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق نظام میں غلطیوں کی وجہ سے انہیں نہ کرنے والے چالان بھیجے جا رہے ہیں، کسی کو چوری شدہ گاڑی کا ای چالان موصول ہو رہا ہے تو کسی کو ایک ہی دن میں متعدد چالان بھیجے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد جی-11 کچہری کے باہر خودکش دھماکہ، 12 شہید، 30 زخمی
تازہ ترین واقعے میں شہری فیصل ستار کے گھر گلشن اقبال پر کسی اور کی گاڑی کا 10 ہزار روپے کا ای چالان بھیجا گیا۔ فیصل ستار کے مطابق ان کے پاس ایک سوزوکی کلٹس گاڑی ہے جبکہ موصول ہونے والا ای چالان سوزوکی مہران گاڑی کے لیے تھا، جو کبھی بھی ان کے زیر استعمال نہیں رہی۔ انہوں نے بتایا کہ مہران گاڑی کا رنگ سرخ جبکہ ان کی کلٹس گاڑی سلور ہے۔
فیصل ستار نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ان کی کلٹس گاڑی گھر پر کھڑی ہے اور متواتر کھڑی رہنے کی وجہ سے بیٹری بھی ڈیڈ ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایکسائز کی ویب سائٹ پر چالان کی تصدیق کے لیے گاڑی کا رجسٹریشن نمبر چیک کیا تو پتہ چلا کہ ای چالان ایس ایف 813 نمبر کی مہران گاڑی کے لیے تھا، جبکہ ان کی کلٹس گاڑی ایس ایف 613 نمبر کی ہے۔
شہری نے بتایا کہ جب وہ شکایت کے لیے ٹریفک پولیس کے سہولت سینٹر پہنچے تو انہیں کہا گیا کہ کیس تحقیقات کمیٹی کو بھیجا جائے گا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ فیصل ستار کا کہنا ہے کہ 10 ہزار روپے کا ناجائز چالان موصول ہونے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس نئی مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے سرکاری دفاتر کے کئی چکر کاٹنے پڑیں گے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ای چالان سسٹم کی خامیوں کو فوری طور پر درست کیا جائے تاکہ شہریوں کو ناجائز الزامات اور ذہنی دباؤ سے بچایا جا سکے۔
