استنبول مذاکرات بغیر بڑی پیش رفت کے ختم کابل کی غیر منطقی ہدایات نے عمل تعطل کا شکار کر دیا

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہفتے کو استنبول میں شروع ہوا، جو قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے دوحہ مذاکرات کا تسلسل تھا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
کراچی میں ای چالان نظام باقاعدہ نافذ 6 گھنٹوں میں 2 ہزار سے زائد چالان سوا کروڑ روپے جرمانے

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے تیسرے دن 18 گھنٹے طویل نشست میں افغان طالبان وفد نے ابتدا میں پاکستان کے جائز مطالبے، یعنی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے اصولی اتفاق کیا، تاہم کابل سے ہدایات موصول ہونے کے بعد ان کا مؤقف اچانک بدل گیا۔

ذرائع کے مطابق، مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ "کابل سے آنے والی غیر منطقی اور غیر قانونی ہدایات” تھیں۔ پاکستانی اور میزبان حکام نے کہا کہ وہ "انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری” کے ساتھ معاملات کے حل کے لیے کوشاں تھے۔

ایک سینیئر سیکیورٹی افسر نے بتایا کہ طالبان کی ضد کے باوجود ایک آخری کوشش اب بھی جاری ہے تاکہ منطق اور مکالمے کے ذریعے کسی متفقہ حل تک پہنچا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق، اگرچہ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، مگر افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں — خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی — کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا طریقہ کار سب سے بڑا اختلافی نکتہ بنا ہوا ہے۔

مذاکرات کے پہلے دن کا ماحول نسبتاً مثبت تھا، شرکاء نے "حوصلہ افزا پیش رفت” اور "دونوں فریقوں کی سنجیدہ شمولیت” کی تعریف کی، لیکن رات گئے صورتحال پھر تعطل کا شکار ہو گئی کیونکہ افغان وفد تحریری معاہدے سے گریزاں رہا۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ فریقین کو امید تھی کہ جلد ہی ایک باہمی دستاویز پر دستخط اور مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا، لیکن کابل کی جانب سے غیر یقینی رویے نے اس عمل کو روک دیا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ میزبان ممالک پاکستان کے تحفظات کو سمجھتے ہیں، تاہم کابل اور قندھار کی قیادت وعدہ کرنے پر آمادہ نہیں۔

قطری اور ترک ثالثوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے، مگر یہ حقیقت اہم ہے کہ دونوں فریق تین دن مسلسل مذاکرات میں شریک رہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں جانب عمل کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں۔

ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق، اسلام آباد نے طالبان وفد کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردوں کی سرپرستی ناقابلِ قبول ہے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “استنبول مذاکرات بغیر بڑی پیش رفت کے ختم کابل کی غیر منطقی ہدایات نے عمل تعطل کا شکار کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!