کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت انکلوسیو سٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، سیکرٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکرٹری ڈی ای پی ڈی پی طحہٰ فاروقی، سلطان الانا، منیر کمال، مروین لوبو، مشتاق چھاپرا، ارشد شاہد عبداللہ، صوبیہ سلطانہ اور فرخ مظہر سمیت بورڈ ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں انکلوسیو سٹی کے جامع ماسٹر پلان کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منصوبہ خصوصی افراد کے لیے صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرے گا اور انہیں بااختیار اور باوقار شہری بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ 75 ایکڑ رقبے پر تیار کیا جا رہا ہے، جو سندھ حکومت کے بہتر طرزِ زندگی اور شمولیتی ترقی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ انکلوسیو سٹی میں رہائشی بلاکس، تعلیمی و تربیتی کمپلیکس، بحالی مراکز، NOWPDP اسپیسز، اسپتال بلاکس، NGO کولابوریشن زون، کلینیکل یونٹس، فنی تربیتی مراکز اور C-ARTS سہولیات شامل ہوں گی۔
اجلاس میں مختلف محکموں اور اداروں — کے الیکٹرک، ایس ایس جی سی، کے ڈبلیو ایس سی، ایس ایس ڈبلیو ایم بی، پی ٹی سی ایل، کے ایم سی اور دیگر — کے درمیان تکنیکی کوآرڈینیشن کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کے الیکٹرک کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ منصوبے کو 4.9 میگا واٹ بجلی 11 کے وی لوڈشیڈنگ فری فیڈر سے فراہم کی جائے گی، جب کہ ایس ایس جی سی نے کورنگی روڈ سے گیس کنکشن کی فراہمی کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
کے ڈبلیو ایس سی نے بتایا کہ منصوبے کے علاقے میں فی الحال سیوریج لائن موجود نہیں، تاہم سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (STPs) نصب کیے جائیں گے تاکہ ٹریٹ شدہ پانی کو دوبارہ استعمال میں لایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سیلابی پانی سے بچاؤ کے لیے ریچارج گڑھے، آبی ذخائر اور نکاسی کے متبادل چینلز جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کی باؤنڈری وال مکمل ہو چکی ہے اور انفراسٹرکچر کے باقی کام دو ماہ میں مکمل کر لیے جائیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کا پہلا مرحلہ (فیز I) چھ ماہ میں مکمل کیا جائے گا، جس میں ان پیشنٹ اسپتال، او پی ڈی، بحالی یونٹس، ووکیشنل اسکولز، رہائشی بلاکس اور اسٹاف ہاؤسنگ شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی رفتار تیز کی جائے، بین الادارہ تعاون بڑھایا جائے اور مسائل کے فوری و مؤثر حل کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ انکلوسیو سٹی محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ سندھ کے ہر شہری کے لیے برابری، ہمدردی اور وقار کی علامت ہوگا۔
