کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان نے وفاقی بجٹ کی منظوری کو سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی بحالی سے مشروط کرنے کا مطالبہ سامنے رکھ دیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ایف آئی اے کی کارروائی، جرمنی جانے والی 3 خواتین مسافر اسٹوڈنٹ ویزا فراڈ میں آف لوڈ
پارٹی کے سینئر رہنما فاروق ستار نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ منظوری کے لیے کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ بحالی کو “ریڈ لائن” بنایا جائے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز اس مؤقف پر متفق ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ کامران ٹیسوری کے دورِ گورنری میں شہر کے مسائل اجاگر کرنے اور مختلف عوامی فلاحی اقدامات کے باعث انہیں اہم سمجھا جاتا تھا، اور ان کی رخصتی سے پارٹی کو سیاسی اور انتظامی سطح پر نقصان پہنچا۔
انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر “دل بڑا کریں” اور سیاسی طور پر مثبت فیصلہ کریں، بصورت دیگر بجٹ منظوری کو اس معاملے سے جوڑ دیا جائے گا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے اندر اس معاملے پر مختلف آرا بھی سامنے آئی ہیں، تاہم مجموعی طور پر رہنماؤں کی اکثریت اسے سیاسی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کامران ٹیسوری کو دوبارہ نامزد کرے اور صدر اس کی منظوری دیں تو پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ایم کیو ایم نے اس موقع پر سندھ میں اختیارات، گورننس اور شہری مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ گورنر جیسے آئینی عہدوں کے ذریعے سندھ حکومت پر چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھا جائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم کے اس مؤقف سے وفاقی حکومت کو بجٹ منظوری کے مرحلے پر نئی سیاسی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ اتحادی سیاست میں کشیدگی بھی بڑھنے کا امکان ہے۔
