شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے حب کینال پر نہانے اور عوامی اجتماعات پر دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود اتوار کے روز ہزاروں افراد نے کینال کا رخ کیا، جس سے متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر عالمی انسانی حقوق تنظیموں کا شدید اعتراض
کمشنر کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں حب کینال پر نہانے اور غیر ضروری عوامی سرگرمیوں پر واضح پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس رہی اور بڑی تعداد میں شہری نہ صرف نہاتے رہے بلکہ اطراف میں بھی غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق پابندی کے باوجود مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا فقدان نظر آیا، جبکہ ڈپٹی کمشنر ضلع غربی اور پولیس حکام کی جانب سے دفعہ 144 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔
واضح رہے کہ حب کینال میں نہانے پر پابندی ماضی میں پیش آنے والے جان لیوا حادثات اور ڈوبنے کے واقعات کے پیش نظر لگائی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد کا داخل ہونا ممکنہ خطرات کو مزید بڑھا رہا ہے۔
اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس اہم آبی منصوبے پر غیر قانونی سرگرمیوں اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کے باعث انتظامی نظام کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے دفعہ 144 پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے اور قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
