کراچی سینٹرل جیل جوڈیشل کمپلیکس میں کوکین اسمگلنگ کیس کی سماعت کے دوران مبینہ منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمے میں اہم عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر Shakil Abbasi نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ ایک ہائی پروفائل کیس میں ملوث ہے، اس کا مبینہ نیٹ ورک وسیع ہے اور 850 سے زائد رابطے منشیات کی ترسیل سے متعلق سامنے آئے ہیں۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزمہ کے پاس مبینہ طور پر لیبارٹری موجود ہے جبکہ لاہور میں منشیات کی تیاری کے ایک یونٹ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس پر چھاپے کے لیے متعلقہ اداروں کو خط لکھا جا چکا ہے۔
دوسری جانب وکلائے صفائی میر ہدایت اللہ اور اسد اللہ جدون نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ پہلے ہی 9 روز جسمانی ریمانڈ پر رہ چکی ہیں اور مزید ریمانڈ کی کوئی قانونی ضرورت نہیں بنتی۔
سماعت کے دوران فریقین کے درمیان شدید دلائل کا تبادلہ ہوا۔ پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ فرانزک رپورٹس اور منشیات کے نمونوں کی جانچ کے بعد مزید تفتیش ضروری ہے، جبکہ دفاع نے کہا کہ تفتیشی ادارے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ چونکہ پیش رفت رپورٹ تسلی بخش نہیں، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ جیل حکام ملزمہ انمول عرف پنکی کو 25 مئی کو دوبارہ عدالت میں پیش کریں تاکہ آئندہ کارروائی جاری رکھی جا سکے۔
