کراچی میں Javed Alam Odho کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور جرائم کے خلاف جاری پولیس اقدامات کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
ایران کا امریکا سے جنگ بندی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ، مذاکرات جاری
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز ٹریننگ، اسپیشل برانچ، ڈی آئی جیز سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول، ہیڈکوارٹرز، سی آئی اے، فائنانس، اے آئی جیز اور زونل ڈی آئی جیز نے شرکت کی، جبکہ ڈویژنل ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔
اجلاس کے دوران اے آئی جی آپریشنز نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھتہ خوری، قتل، اغوا، کاروکاری، جنسی جرائم اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف مختلف اقدامات جاری ہیں، ساتھ ہی ماڈل پولیس اسٹیشنز کے قیام پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
آئی جی سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قتل، بھتہ خوری، اغوا اور جنسی جرائم سے متعلق کیسز پر فوری، مؤثر اور نتیجہ خیز کارروائی یقینی بنائی جائے اور ان میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ جرائم پیشہ اور اشتہاری ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جائے، جبکہ تمام مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ انسانی حقوق خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق شکایات پر فوری کارروائی کی جائے اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور بچوں سے متعلق کیسز کی نگرانی سینئر افسران خود کریں اور ان معاملات میں حساسیت کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں مویشی منڈیوں، بازاروں اور ہائی ویز پر سیکیورٹی اور پیٹرولنگ بڑھانے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ عید کے موقع پر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
آئی جی سندھ نے اسنیپ چیکنگ، ناکہ بندی اور پولیس گشت کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر پولیس کی موجودگی نمایاں ہونی چاہیے۔
انہوں نے ماڈل پولیس اسٹیشنز کے قیام پر ڈی آئی جی ویسٹ اور حیدرآباد ڈویژن کو سراہا اور ہدایت دی کہ تمام زیر تعمیر تھانوں کو جلد مکمل کیا جائے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس افسران فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں، عوامی شکایات کا فوری ازالہ کریں اور شہریوں سے خوش اخلاقی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔
