کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اسپیشل ایونٹ کمیٹی کے زیر اہتمام ندیم سبطین کی آرٹ پر مبنی “Solo Painting & Charcoal Art Work Exhibition” کا انعقاد لابی ایریا میں کیا گیا، جس کا افتتاح صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز سندھ سید ذوالفقار علی شاہ نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کے ہمراہ کیا۔
کراچی: عوام دوست مویشی منڈی میں جانوروں کی تیز فروخت، متعدد بیوپاری منافع سمیت گھروں کو روانہ
اس موقع پر مصور ندیم سبطین بھی موجود تھے جبکہ نمائش میں فائن آرٹس کمیٹی کے چیئرمین فرخ تنویر شہاب، معروف شاعرہ فاطمہ حسن، معظم علی، شاعر تہذیب حافی سمیت فن و ادب سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
نمائش میں 40 فن پارے رکھے گئے ہیں جن میں سیاسی و سماجی شخصیات کے پورٹریٹس بھی شامل ہیں، جن میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری، فریال تالپور، سید مراد علی شاہ، قائم علی شاہ اور دیگر شخصیات کے خاکے نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر بھٹو کے سوئم پر لکھی گئی نظم اور معروف شخصیات کے آرٹ ورک کو بھی فن پاروں میں شامل کیا گیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ ندیم سبطین نے رنگوں اور فن کے ذریعے ایک “تاریخی جمہوریت” تخلیق کی ہے، جو صرف آج نہیں بلکہ تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی نمائشیں نوجوان نسل کے لیے سیکھنے اور سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ یہ نمائش خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس میں آرٹسٹ نے اپنی شاعری اور فن کو یکجا کیا ہے، جو ایک منفرد تخلیقی تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل میں مسلسل ثقافتی سرگرمیاں جاری ہیں جو فنکاروں کو عالمی سطح پر نمایاں کر رہی ہیں۔
شاعرہ فاطمہ حسن نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی فنون لطیفہ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ معظم علی اور دیگر شرکاء نے بھی فن پاروں کو سراہا۔
نمائش کے منتظم ندیم سبطین نے کہا کہ یہ فن پارے ان کی شاعری اور تخلیقی تجربے کا اظہار ہیں، اور یہ ان کی تیسری نمائش ہے۔ انہوں نے آرٹس کونسل کی معاونت کو سراہا۔
نمائش 21 مئی 2026 تک آرٹس کونسل کراچی کے لابی ایریا میں جاری رہے گی۔
