سندھ کے چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کو بھی کتے نے کاٹا تھا۔
ایک نجی اسپتال میں سگ گزیدگی کے علاج کی سہولت موجود نہیں تھی۔
وہاں طبی عملہ بھی اس علاج کے لیے تربیت یافتہ نہیں تھا۔
بعدازاں ان کی اہلیہ کا انڈس اسپتال میں علاج کیا گیا۔
انہیں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین بھی دی گئی۔
ریبیز سے بچاؤ کے لیے بروقت علاج ضروری
سید آصف حیدر شاہ نے یہ بات عالمی یوم ریبیز 2026 کی تقریب میں کہی۔
تقریب انڈس اسپتال کراچی میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر ایک ماہ کی آگاہی مہم بھی مکمل ہوئی۔
چیف سیکریٹری نے بروقت علاج کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے عوامی آگاہی کو بھی ضروری قرار دیا۔
سید آصف حیدر شاہ کے مطابق سندھ میں ریبیز سے 6 افراد کی اموات ہوئی ہیں۔
ان افراد کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین بھی دی گئی تھی۔
ان اموات کی تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقات سے اموات کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2030 تک ریبیز سے پاک پاکستان کا ہدف
چیف سیکریٹری نے کہا کہ ریبیز کے کیسز اب زیادہ رپورٹ ہورہے ہیں۔
ان کے مطابق بیماری سے متعلق عوامی آگاہی بھی بڑھ رہی ہے۔
حکومت 2030 تک پاکستان کو ریبیز سے پاک کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
یہ عالمی سطح پر مقرر کردہ ’’زیرو بائی 30‘‘ ہدف کا حصہ ہے۔
160 ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کی تربیت
تکنیکی مشیر سیف سندھ پروگرام محمد آفتاب گوہر نے تقریب سے خطاب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے انڈس اسپتال کو تکنیکی مشیر مقرر کیا ہے۔
یہ اقدام سیف سندھ پروگرام کے تحت کیا گیا ہے۔
صوبے کے 90 سے زائد مراکز سے 160 ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز تربیت حاصل کرچکے ہیں۔
انہیں ماسٹر ٹرینرز کی تربیت دی گئی ہے۔
اینٹی ریبیز ریفرل سینٹرز کے 30 ماسٹر ٹرینرز کو اسناد بھی دی گئیں۔
ایک ماہ کی آگاہی مہم کراچی اور بدین میں بھی چلائی گئی۔
مہم کے دوران 10 ہزار طلبہ اور 300 اساتذہ کو تربیت دی گئی۔
انہیں کتے کے کاٹنے کے بعد فوری اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
انڈس اسپتال میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد کیسز کا علاج
انڈس اسپتال کے صدر ڈاکٹر عبدالباری خان نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔
انہوں نے ’’زیرو بائی 30‘‘ ہدف کے تحت کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے عوامی آگاہی بڑھانے پر زور دیا۔
بروقت ویکسینیشن بھی ضروری قرار دی گئی۔
تربیت یافتہ طبی عملے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
مؤثر ریفرل نظام کو مضبوط بنانے کی بات بھی کی گئی۔
تقریب میں بتایا گیا کہ انڈس اسپتال نے 2008 سے اب تک ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد کیسز کا مفت علاج کیا۔
اس دوران 700 سے زائد طبی ماہرین کو تربیت بھی دی گئی۔
اختتامی تقریب میں بچوں کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔
ان میں پتلی تماشا اور کوئز مقابلے شامل تھے۔
مرحومہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
وہ پاکستان میں ریبیز سے بچاؤ کی خدمات کی بانی شخصیات میں شامل تھیں۔