جی ڈی اے،جے یو آئی، جماعت اسلامی،پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم حقیقی کا(آج) سندھ اسمبلی کے سامنے پرامن احتجاج کا اعلان

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

فراڈ الیکشن کے خلاف سندھ بھر میں احتجاج کررہے ہیں ،جامشورو اور مورو میں کامیاب دھرنے دئیے عوام نے بوگس نتائج مسترد کردیئے ہیں، مشترکہ پریس کانفرنس

کراچی: گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی ای)جے یو آئی، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم حقیقی نے آج(ہفتہ)سندھ اسمبلی کے سامنے پرامن احتجاج کا اعلان کردیا۔ اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں نے کہاہے کہ ہمارا احتجاج بوگس الیکشن کے خلاف ہے جو مکمل طور پر پرامن ہوگا احتجاج میں رخنہ ڈالنے کی ہر مزموم کوشش کو ناکام بنایا جائیگا، آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے پانچوں جماعتوں کی دس رکنی مشاورتی کمیٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
اس بات کا اعلان جی ڈی اے سندھ کے چیف کوآرڈینیٹر صدرالدین شاہ راشدی، جے یو آئی سندھ کے امیر مولانا راشد محمود سومرو، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن اور پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے اجلاس کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

قبل ازیں جی ڈی اے اور اتحادی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس ہوا اجلاس میں بوگس الیکشن کے خلاف مختلف تجاویز سامنے آئیں، جس پر مشاورت کے بعد پانچوں اتحادیوں کی دس رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو آئندہ کا روڈ میپ تیار کریگی اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ چھینے گئے عوامی مینڈیٹ کی واپسی تک پرامن احتجاج جاری رہیگا، پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر الدین شاہ راشدی نے کہا کہ ہمارا احتجاج بوگس الیکشن کے خلاف ہے الیکشن میں ووٹ کے نام پر نوٹ چلا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے اور فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر صاحب پگارا ہیں جب ضرورت پڑے گی وہ فرنٹ پر آئیں گے ہماری احتجاجی تحریک کی قیادت پیر صاحب پاگارا کررہے ہیں اس موقع پر ڈاکٹر صفدر علی عباسی کا کہنا تھا کہ ہم فراڈ الیکشن کے خلاف سندھ بھر میں احتجاج کررہے ہیں ہم نے جامشورو اور مورو میں کامیاب دھرنے دئیے عوام نے بوگس الیکشن کے نتائج مسترد کردیئے ہیں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جی ڈی اے، جماعت اسلامی، جے یو آئی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم حقیقی (آج)جمعہ کو دن 11 بجے سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاج کریں گے یہ پانچوں جماعتوں کا مشترکہ اعلان ہے ایم کیو ایم حقیقی بھی ہمارے ساتھ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جہدوجہد پرامن ہے کہیں بھی ایک پتھر نہیں لگا ہے ہم قانونی اور آئینی احتجاج کی طرف جارہے ہیں ہم نئے الیکشن کی طرف جائیں گے ہمارے ارکان کل حلف نہیں لیں گے۔ ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہاکہ (آج)جمعہ کے بعد دوبارہ بیٹھیں گے اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ (آج)جمعہ کو جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کے ارکان بھی حلف نہیں لیں گے۔
جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم جی ڈی اے سے اظہار یک جہتی کے تحت آج جمعہ کوحلف نہیں لیں گے ہمارے ارکان بعد میں حلف لیں گے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں بندر بانٹ سے سیٹیں تقسیم کی گی ہیں جو مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ہمارے پاس فارم 45 موجود ہیں اس پورے الیکشن کو یرغمال بنایا گیا ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں احتجاج کا دائرہ بڑھا رہے ہیں ۔
پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ کے تمام ڈویژن میں ڈاکہ ڈالا گیا واردات ہر جگہ ہوئی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں حافظ نعیم الرحمن نے کلمہ حق بلند کیا میئر کے الیکشن میں بھی ڈاکہ ڈالا گیا تھا یہ الیکشن نہیں فراڈ تھا۔ ن لیگ ،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اے بات نہیں ہوسکتی ہے سندھ کے وسائل کو یہ تقسیم کررہے ہیں سندھ کو ریاست بنایا جارہا ہے اس کو کسی کی ریاست نہیں بننے دیں۔
گے پورے سندھ میں 22 ایم این اے کی سیٹیں ہماری ہیں سندھ ہائی کورٹ کبھی گئے تھے چیف الیکشن کمشنر کو استعفی دینا چاہیے الیکشن کمیشن مینڈیٹ کی چوری میں شامل ہے یہ آئین سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں ان تینوں پارٹیوں کی اجتماعی قبر بنے گی ہم آخری سیٹ کی چوری کی واپسی تک آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس موقع پر علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ پورے سندھ کے کارکنان سے کہتا ہوں تمام کارکنان کراچی کے لیے روانہ ہو جائیں ہم نے فی الحال باقی پلان کینسل کیے ہیں ہم احتجاجی پراسس کو آگے ملکر لیکر چلیں گے ۔
راشد محمود سومرو نے کہا کہ سپریم کورٹ کے باہر احتجاج میں مریم نواز ، اور بلاول بھی ہمارے ساتھ تھے اگر سپریم کورٹ پر احتجاج ہوسکتا ہے تو سندھ اسمبلی کے باہر بھی احتجاج ہوسکتا ہے ہم نے جنازے اٹھائے ہیں اگر کوئی راستہ روکے گا اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔ اجلاس میں مسرور خان جتوئی، لیاقت جتوئی، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سید غوث علی شاہ، سردار عبدالرحیم،علامہ ناصر محمود سومرو، علی پلھ، آغا تیمور پٹھان، عالمگیر خان، عرفان اللہ خان مروت، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، مسرور خان جتوئی، محمد خان جونیجو، جلال شاہ جاموٹ، نند کمار گوکلانی، عبدالرزاق راہموں، راحیلہ گل مگسی، سائرہ بانو، سید اسماعیل شاہ، ، میر اصغر پہنور، مظہر راہوجو، غلام دستگیر راجڑ، جام نفیس، خضر حیات، محمد بخش خاصخیلی، ارباب انور، سید زوہیب شاہ، قاری عثمان, راجا اظہر، سید منیر حیدر شاہ سمیت دیگر بھی شریک ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!