ماریہ ساریو سمیت 14 ملزمان عدالت میں پیش

کراچی میں ایس ایس پی آفس میں احتجاج اور مبینہ ہنگامہ آرائی کے کیس میں پولیس نے سابق وومن کمپلینٹ سیل انچارج ماریہ ساریو سمیت 14 خواجہ سراؤں کو عدالت میں پیش کر دیا۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی کا محرم سیکیورٹی اجلاس

ملزمان کو کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کے جج سجاد کھوسو کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت ملزمان کی جانب سے پولیس پر تشدد کے الزامات عائد کیے گئے۔ خواجہ سراؤں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سی آئی اے سینٹر منتقل کر کے مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ زیر دفعہ مقدمہ میں شامل دفعات قابل ضمانت ہیں، جبکہ طبی معائنہ کرانے کی بھی استدعا کی گئی۔

دوسری جانب پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ زیر حراست ملزمان سے مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ماریہ ساریو کو گرفتار کیا گیا تھا، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر پوسٹنگ کے دباؤ کے لیے خواجہ سرا برادری کو احتجاج پر اکسایا۔

پولیس کے مطابق خواجہ سرا برادری نے مبینہ طور پر دوبارہ پوسٹنگ کے مطالبے پر ایس ایس پی آفس میں احتجاج کیا تھا، جس کے بعد ماریہ ساریو اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

One thought on “ماریہ ساریو سمیت 14 ملزمان عدالت میں پیش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!