اسلام آباد (23 اپریل 2026): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا، جس میں توانائی کے شعبے کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
گڈاپ سٹی پولیس کی کارروائی، منشیات فروشی میں ملوث خاتون گرفتار
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انرجی سیکیورٹی اب ملک کی مجموعی مستقبل کی منصوبہ بندی کا ایک نہایت اہم جزو بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باوجود بروقت اقدامات اور توانائی کی بچت کے باعث ملک میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں خام تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کے قیام کے منصوبے پر کام تیز کیا جائے۔ انہوں نے پائیدار ترقی کے لیے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مرحلہ وار ماحول دوست برقی ذرائع (الیکٹرک وہیکلز) پر منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ آئندہ سرکاری استعمال کے لیے صرف بجلی سے چلنے والی بسیں اور موٹر سائیکلیں خریدی جائیں، جبکہ الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کو بھی تیز کیا جائے۔ وزیراعظم نے شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کی اسٹوریج کے لیے بیٹریوں کی دستیابی کو آسان بنانے اور مقامی سطح پر اعلیٰ معیار کی بیٹریز کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (NCMC) علاقائی صورتحال کے تناظر میں توانائی کے شعبے کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور غذائی سیکیورٹی کی صورتحال بھی مستحکم ہے۔
حکام کے مطابق تیل و گیس کمپنیوں کی مسلسل کوششوں سے مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ گرڈ کی سطح پر بیٹری اسٹوریج کے لیے دو تجرباتی منصوبوں کے پی سی ون تیار کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح شمسی توانائی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو بیٹری اسٹوریج کی تنصیب کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء، مشیران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔
