امریکا نے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایرانی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے۔
امارات کو بیرونی مالی مدد کی ضرورت نہیں، معیشت مضبوط ہے: یوسف العتیبہ
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کی اس نئی فہرست میں 14 افراد اور مختلف کمپنیاں شامل کی گئی ہیں، جن پر ایران کو اسلحہ اور دفاعی ساز و سامان کی فراہمی میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے ایران کے ہتھیاروں کے عالمی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اس کی رسد کو روکا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے اہداف میں بعض ایرانی طیارے بھی شامل ہیں، جبکہ ایران کے علاوہ ترکیے اور متحدہ عرب امارات میں موجود ایسے عناصر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ پابندیاں نہ صرف ایران کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں بلکہ عالمی سطح پر غیر قانونی اسلحہ ترسیل کے خلاف جاری مہم کا بھی حصہ ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
