کراچی، اسلام آباد اور گوجرانوالہ میں پاکستان سنی تحریک کے زیر اہتمام “استحکامِ پاکستان ورکرز کنونشن” منعقد کیا گیا جس میں مختلف مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ کنونشن سے مرکزی ترجمان فہیم الدین شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے اور طاقت کے ذریعے مسلط کردہ فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے۔
زمان ٹاؤن پولیس کی کارروائی، انتہائی مطلوب اسٹریٹ کرمنل گرفتار، اسلحہ برآمد
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے قومی اتحاد، اتفاق اور اجتماعی سوچ ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی عوام اور افواج ملک کے دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
خطاب میں فہیم الدین شیخ نے ایران، امریکہ اور لبنان کے درمیان حالیہ عارضی جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مستقل امن میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام قائم ہو سکے۔ انہوں نے ایران کی مزاحمت اور استقامت کو بھی سراہا۔
کنونشن میں دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان میں کسی قسم کی لسانی یا مذہبی تقسیم کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور بلوچستان سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں بیرونی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ مقررین نے افغانستان سمیت خطے میں بیرونی مداخلت کے خاتمے اور پرامن پالیسیوں پر زور دیا۔
اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔
