وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت حیدرآباد کے پانی منصوبے سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کو صاف پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
تیموریہ پولیس کی بڑی کارروائی، باپ بیٹے سمیت 8 رکنی اسٹریٹ کرمنل گینگ گرفتار
اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات و آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حیدرآباد کے قاسم آباد میں 6 ایم جی ڈی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیا جائے گا، جس کا مقصد شہریوں کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی جام خان شورو نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے منصوبے کے لیے قاسم آباد میں اراضی کی درخواست کی تھی، جس پر ضلعی حکام نے گوٹھ مصری شیخ میں تقریباً 25 ایکڑ سرکاری زمین کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں سے 22 ایکڑ زمین اے ون کیٹیگری میں آتی ہے اور فوری استعمال کے لیے موزوں ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کی اور کہا کہ عوام کو صاف اور صحت مند پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد دے گا بلکہ حیدرآباد اور قاسم آباد کے شہریوں کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنائے گا۔
سید مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں تیزی سے مکمل کی جائیں اور منصوبے پر سخت نگرانی رکھی جائے تاکہ بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔
