امریکا نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی یا کسی بھی ممکنہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں دوبارہ فوجی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی حکمت عملی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
پاک ترک مشترکہ کمانڈو مشق “جناح 13” ترکی میں کامیابی سے مکمل، دفاعی تعاون مزید مضبوط
واشنگٹن کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو مؤثر انداز میں نافذ کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران کی سمندری تجارتی سرگرمیوں اور بالخصوص تیل کی برآمدات کو محدود کرنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین نے مشترکہ بریفنگ میں کہا کہ ایران کی بندرگاہوں کی طرف جانے اور وہاں سے آنے والے تمام جہازوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ ان کے مطابق یہ اقدام پیر سے نافذ العمل ہے اور اب تک 13 جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ امریکی افواج ایران کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں طاقت کے استعمال کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام سے ایران کی معاشی سرگرمیوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ یہ بحری ناکہ بندی جتنا عرصہ چاہے جاری رکھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بحری، فضائی اور میزائل صلاحیتوں کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور خطے میں اس کی عملی صلاحیت محدود ہو چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر ایران نے مذاکرات سے انکار کیا تو امریکا مزید فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ امریکی حکام نے اپنی افواج کو مکمل طور پر تیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
بریفنگ میں آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی اور کہا گیا کہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ میں نقل و حرکت پر مؤثر نگرانی اور کنٹرول کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی حکام نے ایران کو خبردار کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے دانشمندانہ فیصلہ کرے اور سفارتی راستہ اختیار کرے، بصورت دیگر کشیدگی میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
