سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آن دی اسپاٹ ڈیمولیشن آپریشن

سندھ لوکل گورنمنٹ، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ کے وزیر سید ناصر حسین شاہ کی ہدایات پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے کراچی بھر میں غیر قانونی اور بغیر منظوری تعمیرات کے خلاف آن دی اسپاٹ ڈیمولیشن آپریشن مزید تیز کر دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، بلڈنگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد، غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ اور شہر کے تعمیراتی نظام میں دیرینہ احتساب کو یقینی بنانا ہے۔ یہ بات ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو نے اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی واضح پالیسی کے تحت غیر قانونی تعمیرات، بغیر منظوری اضافی فلورز، غیر مجاز بکنگ دفاتر اور شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ہر تعمیر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی ہدایات کے مطابق SBCA اب صرف نوٹس جاری کرنے تک محدود نہیں بلکہ موقع پر پہنچ کر غیر قانونی حصوں کا انہدام، عمارتوں کی سیلنگ، غیر مجاز تعمیرات کا خاتمہ اور تعمیراتی کام کی فوری بندش جیسے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

کراچی جاب فیئر، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع

ڈی جی SBCA نے بتایا کہ کراچی ریجن میں جنوری تا اپریل 2026 مجموعی طور پر 396 کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ ان میں ضلع ایسٹ میں 136، ویسٹ میں 17، ساؤتھ میں 52، سینٹرل میں 133، کورنگی میں 27، ملیر میں 23، کیماڑی میں 5 جبکہ انڈسٹریز زون میں 3 کارروائیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجموعی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ SBCA نے کراچی کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف اپنی انفورسمنٹ سرگرمیوں میں نمایاں تیزی لائی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق جنوری 2026 میں 147 کارروائیاں کی گئیں جن میں ایسٹ میں 68، ویسٹ میں 5، ساؤتھ میں 13، سینٹرل میں 47، کورنگی میں 6، ملیر میں 1، کیماڑی میں 4 اور انڈسٹریز زون میں 3 کارروائیاں شامل تھیں۔ فروری 2026 میں 98 کارروائیاں عمل میں آئیں جن میں ایسٹ میں 32، ویسٹ میں 2، ساؤتھ میں 16، سینٹرل میں 45، کورنگی میں صفر، ملیر میں 2، کیماڑی میں 1 کارروائی ریکارڈ ہوئی۔ مارچ 2026 میں 106 کارروائیاں کی گئیں جن میں ایسٹ میں 22، ویسٹ میں 6، ساؤتھ میں 14، سینٹرل میں 32، کورنگی میں 20، ملیر میں 12 جبکہ کیماڑی اور انڈسٹریز زون میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔   

انہوں نے بتایا کہ اپریل 2026 میں مزید 45 کارروائیاں کی گئیں جن میں ضلع ایسٹ میں 14، ویسٹ میں 4، ساؤتھ میں 9، سینٹرل میں 9، کورنگی میں 1، ملیر میں 8 جبکہ کیماڑی اور انڈسٹریز زون میں کوئی کارروائی ریکارڈ نہیں ہوئی۔ ڈی جی SBCA نے کہا کہ اپریل کے اعداد و شمار سے واضح ہے کہ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن بدستور مؤثر انداز میں جاری ہے اور مختلف اضلاع میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

مزمل حسین ہالیپوٹو نے حالیہ انہدامی کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 02 اپریل 2026 کو پلاٹ نمبر A1، بلاک 13-A، اسکیم 24، گلشنِ اقبال، ضلع ایسٹ کراچی میں بغیر کسی منظوری کے گراؤنڈ پلس سیکنڈ فلور تک تعمیرات کی جا رہی تھیں۔ کارروائی کے دوران دوسری منزل منہدم کی گئی، پہلی منزل کا پروجیکشن کاٹا گیا اور بلاک میسنری والز بھی گرا دی گئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 01 اپریل 2026 کو پلاٹ نمبر 1762، بغدادی، لیاری، ضلع ساؤتھ کراچی میں بغیر منظوری گراؤنڈ پلس سات منزلہ تعمیرات کے خلاف ڈیمولیشن ایکشن لیا گیا۔ اس کارروائی میں چھٹی اور ساتویں منزل کے سلیب رات 8 بجے تک منہدم اور کٹ ڈاؤن کیے گئے جبکہ باقی کارروائی آئندہ مرحلے میں جاری رکھنے کے لیے سائٹ برقرار رکھی گئی۔ اسی روز پلاٹ نمبر Q-341، سیکٹر 33-A، ضلع کورنگی کراچی میں بھی کارروائی کی گئی جہاں CP نمبر 1673/2023 کا حوالہ موجود تھا تاہم تعمیرات کے لیے کوئی منظوری نہ تھی۔ وہاں گراؤنڈ پلس فرسٹ فلور بغیر اجازت تعمیر کیا گیا تھا۔ SBCA نے پہلی منزل منہدم کر دی اور احاطہ سیل کر دیا۔ ڈی جی SBCA نے کہا کہ 01 اپریل 2026 کو غازی قادری ٹاؤن، دیہہ تھانو، ضلع ملیر کراچی میں قائم ایک غیر قانونی بکنگ آفس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی اور اتھارٹی نے موقع پر ہی غیر قانونی بکنگ آفس کو سیل کر دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 01 اپریل 2026 کو پلاٹ نمبر 01 WO 04، واڈھو مل کوارٹرز، ضلع ساؤتھ کراچی میں بھی انہدامی کارروائی کی گئی۔ اس مقام پر منظوری کی صورتحال واضح نہ تھی جبکہ گراؤنڈ فلور پرانی اور زیر استعمال تھی اور پہلی منزل پر شٹرنگ کا کام جاری تھا۔ SBCA ٹیم نے پہلی منزل منہدم کی، RCC کالمز گرا دیے اور بلاک میسنری والز بھی ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ 09 اپریل 2026 کو گلستانِ جوہر، C-23، بلاک 6، اسکیم 36، ضلع ایسٹ کراچی میں بھی انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ SBCA اپریل کے دوران بھی تسلسل کے ساتھ فیلڈ میں متحرک رہی اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائیاں کرتی رہی۔

مزمل حسین ہالیپوٹو نے کہا کہ غیر قانونی اضافی فلورز، بغیر منظوری عمارتیں اور غیر مجاز تعمیرات نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ شہریوں کی زندگیوں، ملحقہ املاک، شہری سہولیات اور مجموعی شہری نظم و ضبط کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تعمیرات اکثر اسٹرکچرل سیفٹی کو متاثر کرتی ہیں اور مستقبل میں بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے بلڈرز، ڈیولپرز، کنٹریکٹرز اور جائیداد مالکان کو خبردار کیا کہ وہ مجاز اتھارٹی سے قانونی منظوری کے بغیر کسی قسم کی تعمیرات شروع نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ SBCA کے تمام متعلقہ افسران اور فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مسلسل نگرانی کریں اور جہاں بھی خلاف ورزی پائی جائے فوری کارروائی عمل میں لائیں۔ ڈی جی SBCA نے واضح کیا کہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی ہدایات کے مطابق یہ آپریشن پوری قوت سے جاری رہے گا اور قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد صرف غیر قانونی تعمیرات کو گرانا نہیں بلکہ شہری نظم و نسق کو بحال کرنا، عوام کا اعتماد مضبوط کرنا اور کراچی کے تعمیراتی شعبے میں قانون، تحفظ اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی عمارت، منصوبے یا بکنگ میں سرمایہ کاری سے پہلے اس کی قانونی حیثیت اور منظور شدہ نقشہ ضرور چیک کریں اور غیر قانونی تعمیرات کی اطلاع SBCA کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

One thought on “سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آن دی اسپاٹ ڈیمولیشن آپریشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!