مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران Iran نے Israel کے ساحلی شہر Haifa میں واقع آئل ریفائنری ڈپو کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی تیل کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یوٹیوبر رجب بٹ نے اہلیہ ایمان اسد کو طلاق دے دی
قطری خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جانب سے حیفا میں واقع آئل ریفائنری پر شدت کے ساتھ حملہ کیا گیا جس میں ڈرونز کے ذریعے تیل ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد ریفائنری کے کچھ حصوں میں آگ بھڑک اٹھی اور صنعتی سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب یعنی Islamic Revolutionary Guard Corps نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ایران کے تیل کے ذخائر پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں یہ اقدام اٹھایا گیا تاکہ ایران کے اقتصادی مفادات کو نشانہ بنانے کا جواب دیا جا سکے۔
حملے کے بعد اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے اور حساس تنصیبات کے اطراف حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق حیفا کی آئل ریفائنری اسرائیل کی اہم توانائی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس حملے کے معاشی اور سیکیورٹی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات پر فی الحال غور نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے مذاکرات کا تجربہ تلخ رہا اور اس کے باوجود امریکا نے ایران پر حملوں کا راستہ اختیار کیا۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں نے پورے خطے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیل کی پیداوار اور ترسیل میں کسی بھی قسم کی سستی کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوتی بلکہ یہ صورتحال بیرونی حملوں اور خطے کی موجودہ کشیدہ فضا کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کارروائیوں سے خطے میں فوجی اور اقتصادی خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مزید جوابی حملوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔
